|
|
|
|
پنجابی کی پو ٹھوہاری بولی میں "موہڑہ" ایک چھوٹی سی آبادی کو کہتے ہیں۔ اللہ والوں کی برکت سے یہ چھوٹا سا گاؤں یمن و سعادت کا مرکز بنا ہوا ہے اور موہڑہ شریف کہلاتا ہے۔ راولپنڈی سے بذریعہ کار یا لاری مری جائیں تو سنی بینک سے آگے کلڈنہ کےمقام پر پیر ہارون الرشید روڈ بائیں طرف نیچے اترتی ہے۔ قریباً چار میل پہاڑی علاقہ کے نشیب و فراز طے کرکے یہ سڑک دربار شریف پہنچ جاتی ہے۔ اگر کشمیری بازار کے راستہ سے بھوربن جائیں تو بھوربن سے پہلے پیر ہارون الرشید روڈ بائیں جانب نیچے اُترتی ہے جس پر قریباً پانچ کلومیٹر کی ڈھلوان طے کرکے منزل مقصود تک رسائی ہو سکتی ہے۔ سرسبز پہاڑوں میں اللہ والوں کی یہ بستی آباد ہے۔ قدرتی چشمے جاری ہیں۔ قریب ہی ایک پہاڑی ندی بہہ رہی ہے۔ زائرین کے آرام و آسائش کے لئے پہاڑی مقام کی رعایت کے پیش نظر نہایت عمدہ و مصفا مکانات بنے ہوئے ہیں۔ لنگر جاری ہے ﴿ماشاء اللہ﴾۔ مشتاقین کے زیادہ تعداد میں حاضر ہونے پر خیمے وغیرہ بھی نصب کردئیے جاتے ہیں۔ ہر وقت ذکر و فکر کی محافل آراستہ رہتی ہیں۔ایک مقامِ "ہُو" ہے جہاں جنگل اور پہاڑ گلستانِ معرفت بنے ہوئے ہیں۔ غوث الامت حضرت خواجہ محمد قاسمؒ اور غوث المعظم الحاج پیر نظیر احمدؒکے مزارات زیارت گاہِ خاص و عام ہیں جن کی بدولت اللہ کریم نے موہڑہ شریف کو سرچشمۀ معرفتِ الٰہی بنایا ہوا ہے۔ اس وقت مرجع خلائق غوث الزماں اعلٰی حضرت الحاج پیر ہارون الرشید صاحب مد ظلہ تعالٰی مسند سجادگی پر فائز ہیں۔ مخلوق خدا بلا امتیاز رنگ و نسل آپ کے سرچشمۀ فیض سے سیراب ہورہی ہے۔ ماشاء اللہ۔ اس دربار عالی میں قرآنِ پاک اور سنت مطہرہ رسول ﷺ کے مطابق تبلیغ دین حقّہ فرمائی جارہی ہے اور مشرّع طریق پر اصلاح خلق و درستی اخلاق ہو رہی ہے۔ |


